بدھ، 24 ستمبر، 2014

دلیل سے نظریات کا رد

کسی بھی چیز کو قبول کرنے کے لیے دلیل ہوتی ہے۔ لیکن کسی چیز پر یقین کرنے کے لیے کبھی کوئی دلیل موجود نہیں ہوتی۔ اسی لیے جہاں دل مانتا ہو وہیں یقین کرنا آسان ہے۔ دل نہیں مانتا تو دلیل ملنے کے بعد اسے توڑنے کی تگ و دو شروع ہوتی ہے۔ کوئی بھی نظریہ اور کوئی بھی عقیدہ اتنا آخری نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ ساری زندگی گزاری جاسکے۔ لیکن دل جہاں مطمئن ہو وہاں ساری زندگی گزاری جاتی ہے۔ اس ضمن میں منتخب شدہ کسی بھی نظریے کے خلاف دلائل کے رد میں انسان اپنی تمام عمر صرف کردیتا ہے۔
وضاحت:
1۔ عقل کبھی کسی کامل نظریے کا انتخاب نہیں کرسکتی۔
2۔ کسی بھی کامل نظریے کو دلائل سے کامل ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
3۔ کسی نظریے کے رد میں دلیلیں دے کر کبھی کسی نظریے کو رد نہیں کیا جاسکتا۔
4۔ کامل نظریہ اپنی تعریف اور اپنے معیارات میں ہمیشہ نامعلوم رہتا ہے۔
5۔ کسی نظریے کو قبول کرنا محض عقلی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ اس میں اطمینان کارفرما ہے۔

-مزمل شیخ

سوزِ ذات

خود اپنی ذات کے سوز کا ادراک جب تک حاصل نہ ہو انسان اپنی صفاتِ پاکیزہ کے مراتب نہیں پاسکتا۔ یہ سوز ہر ایک میں ہوتا ہے. بس کچھ لوگ اس کو آنچ دینا اور بھڑکانا نہیں جانتے۔
مائل ہونے کی بات ہے۔ کچھ لوگ اس جانب مائل ہی نہیں ہوتے۔
سوز محسوسات کا وہ مقام ہے جہاں انسان کو ظاہر کی چکا چوند متاثر نہیں کرتی۔ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ کرب میں مبتلا پاتا ہے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے۔ انسان مطمئن تب ہی رہ سکتا ہے جب کہ وہ بے حسی کو خود پر طاری کرلے۔ ظاہر کی مستی اگر تمہیں تمہاری ذات اور تمہاری اوقات کو بھلانے میں کامیاب ہوگئی ہے، وہ تمہیں مسرور رکھتی ہے تو تم کبھی اپنی ذات کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ انسان صرف ایک گوشت پوست کے جسم کا نام نہیں ہے۔ یہ اتنی قوت رکھتا ہے کہ قوانینِ کائنات کو اپنی نگاہِ سوز سے متصرف کردے۔ لیکن معاملہ اس کے الٹ ہے۔ یہ حقیقتِ کائنات کو ظاہر اور عقل پر تولتا ہے۔ لیکن جب عقل کامل ہی نہیں اور علم کی وہ وسعت جو یکسوئی اور استقلال، جہد و ریاضت سے حاصل ہوتی ہے وہی اس کے لیے نا قابلِ تسخیر رہی تو پھر انسان گوشت پوست کا جسم ہی ہے۔ اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔
اب سوز کے مختلف مدارج ہیں۔ لیکن سب کا ماخذ اپنی اکائی میں ایک ہی ہے۔ سوز کا پہلا درجہ انسان کو مغموم کرتا ہے، اور آخری درجہ مجذوب کردیتا ہے۔

-مزمل شیخ

مسلمان کی خرابی اور کافر کی اچھائی

مسلمانوں کی خرابی یہ کہ وہ اپنی خواہشات، احساسات، جذبات، معصیت اور بد چلنی کو بھی "مسلمان" کر لیا کرتے ہیں۔
کافروں کی اچھائی یہ کہ وہ اس کا فائدہ اٹھانے میں قطعاً دیر نہیں کرتے۔

-مزمل شیخ

انتہائی سادہ سی بات ہے۔

گناہ گار ٹھہرائے گئے معصوم لوگ اور بے گناہ ٹھہرائے گئے مجرمین۔
اندھے، گونگے اور بہرے ظالم بادشاہ۔
نا انصافیاں کرنے والے حکمران۔
پیٹھ پیچھے وار کرنے والے دغا باز اور ذلیل لوگ۔
اگر کوئی اتنی عقل رکھتا ہے کہ ان لوگوں کو برا اور بدضمیر سمجھتا ہے یا کسی کو قابل رحم سمجھتا ہے تو اسے اپنے اسی سمجھ رکھنے والےدماغ سے مان لینا چاہیے کہ ان سب کا جلد ہی حساب و کتاب ہونے والا ہے۔
لیکن اگر کوئی اپنے دماغ سے ان اخلاقی اقدار کی تمیز و تفہیم سے قاصر ہے تو بے شک وہ خدا اور حیات بعد الممات کا انکار کردے۔

-مزمل شیخ۔

دماغ کا کوئی مورچہ کم عقل ضرور ہے

ہر دانا اور عقل مند انسان اپنے دماغ کے کسی کونے, کسی کوچے, کسی چوکھٹ یا کسی مورچے سے کم عقل ضرور ہوتا ہے.

-مزمل شیخ

جمعہ، 12 ستمبر، 2014

انسان غیر مطمئن رہے گا

کائنات میں صرف ہم اپنے آپ کو معاف کرسکتے ہیں. کسی دوسرے کو معاف کرنا بہت سنگین مرحلہ ہے. انسان اپنے آپ میں اس قدر رنجور اور تھکا ہوا ہے کہ وہ اپنے آپ کے علاوہ کسی کو مظلوم سمجھنے سے قاصر ہے. یہ عجیب پر اسرار مقام ہے جہاں انسان کی اپنی ترجیحات ہی کئی مختلف صورتوں میں جلوہ گر ہوتی ہیں. ایسی ایسی صورتیں سامنے آتی ہیں کہ بعض وقت دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ یہ دوسروں کے لیے انسانیت کا درد اپنے دل میں رکھے ہوئے ہیں. حالانکہ کائنات کا ذرہ ذرہ ہر ہر قطرہ ابدی طور پر اپنی ذات کی تسکین کی دوڑ دھوپ میں مصروف ہے. یہ سارا اکتساب صرف اپنی ذات کے لیے ہے. ایسی ذات جو کرب و بے چینی سے ہمیشہ کے لیے غیر مطمئن رہنے پر لکھی جاچکی ہے.
وہ ہمیشہ غیر مطمئن ہی رہے گی. کوئی اسے مطمئن نہیں کرسکے گا. کبھی بھی نہیں.

مزمل شیخ

جمعرات، 11 ستمبر، 2014

تریاق اکبر

میں یہ تو نہیں کہتا کہ تم اپنی رائے بدل لو. میں تو صرف یہ کہتا ہوں کہ مزاج اور گفتگو میں اتنی شائستگی پیدا کرلو کہ تمھارا مخالف تمہاری بات کو رد کرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرے. بصورتِ دیگر خاموشی اختیار کرلو.
عاجزی و انکساری ہر زہر کے لیے تریاق کا کام کرتی ہے.

مزمل شیخ

فیس بک پوسٹ

بدھ، 3 ستمبر، 2014

عزت و شہرت اور مطلبی انسان

حقیقت میں انسان عزت و شہرت کی اتنی حرص میں مبتلا ہے کہ اس کے لیے کسی بھی حد تک جاتا ہے، رعب و دبدبے کے لیے انسان طاقت، پیسہ، گھر، جاگیر اور یہاں تک کہ اپنا حلیہ تک بدل ڈالتا ہے۔ اس کے کپڑوں میں پہلے سے زیادہ کَلَف آجاتا ہے۔
لیکن عزت و شہرت میں ساتھ رہنے والے لوگ اگر برے وقت میں اس کا ساتھ چھوڑ جائیں تو تمام دنیا کو مطلبی اور لالچی ٹھہراتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ زمانے میں وہ جن چیزوں سے معتبر بنا ہے اگر وہ چیزیں چلی گئیں تو اس کا اعتبار بھی تو جاتا ہی رہا۔ پھر لوگوں سے شکایت کیسی؟

-مزمل شیخ

اتوار، 31 اگست، 2014

یکسوئی اور استقامت کا حصول۔ ایک استفسار کے جواب میں

قوتِ ارادی کیا چیز ہے؟ کسی چیز کے کر گزرنے کی ٹھان کر اس میں استقلال پر قائم رہنا۔
بڑے لوگ کہہ گئے ہیں کہ سو کرامات سے بہتر ایک استقامت ہے۔ جس میں استقامت ہو وہ کرامت رکھنے والے سے بڑا ہے۔
اب یہ طے آپ نے کرنا ہے کہ آپ یکسوئی اور استقامت کو کس سمت سے دیکھ رہے ہیں اور کس طرح کی یکسوئی کا حصول چاہتے ہیں۔
یکسوئی کا حصول کئی طریقوں پر ممکن ہے۔ جن میں چند طریقے مختصراً میں عرض کروں گا۔:

خواہشات کی تکمیل۔۔۔ یہ یکسوئی کا ایک ایسا راستہ ہے کہ اگر انسان کو حاصل ہوجائے تو یکسوئی حاصل ہونا واجب ہوتا ہے۔ اگر کوئی انسان اپنی امنگوں اور خواہشات کی تکمیل کر کے خواہشات سے اکتا چکا ہے تو ایسا انسان استقلال اور یکسوئی کو ضمنی مرکبات (by-products) کی صورت میں حاصل کرلیتا ہے۔ پھر وہ جس کام کی طرف بھی چلتا ہے اس میں کوئی رکاوٹ اور بھٹک جانے کا خطرہ پیشِ نظر نہیں رہتا۔ کیونکہ وہ اشتعال و انتشار کے تمام در بند کرچکا ہے۔ کسی بھی نو آموز کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ درمیان کی رونقیں اور رنگینیاں ہوتی ہیں جو اس نے کبھی دیکھی نہیں ہوتیں۔ خواہشات کو مارنا اور آگے بڑھنا انسان کو اکثر منتشر کردیتا ہے، اسکی تسکین ممکن نہیں ہوتی۔ لیکن اگر ان خواہشات کی پیاس بجھ جائے تو کسی رستے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں رہتی۔
واضح رہے کہ اس وقت موضوع صرف اور صرف یکسوئی یا استقلال ہے۔ کوئی دوسرا موضوعاتی اختلاف فی الوقت محلِ نظر ہے۔ 

تزکیۂ نفس۔۔۔ قوتِ ارادی اور یکسوئی کے حصول کا دوسرا طریقہ جو صوفیائے کرام کا ہوا کرتا ہے وہ ہم سب کے عام طور پر علم میں ہوتا ہے۔ اس میں خواہشات کی تکمیل کی نہیں بلکہ نفس کو توڑنے کی مکمل سعی کی جاتی ہے، شہوات کو مغلوب کرنے، طبیعت میں لینت پیدا کرنے کی خاطر صوفیا کے مختلف طریقے ہیں جن سے یہ منازل طے ہوتی ہیں۔ اس کے لیے کوئی بہت زیادہ محنت اور لمبے چوڑے طریقے اختیار کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ مختلف معمولات سے بھی ذہنی اور روحانی یکسوئی کا حصول ممکن ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ ذکر و اذکار سے کرتے ہیں، کچھ لوگ اسمائے جمالی کی ضربوں سے یہ کام کرنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ دوسرے اور طریقے اختیار کرتے ہیں۔ فرقۂ اشراقیہ کے فلاسفہ بھی انہی جہد و ریاضت کو علوم و فنون کے حصول کا آخر اور ناگزیر ذریعہ جانتے تھے۔
یہاں اس بات کو بھی جاننا چاہیے کہ جہد و ریاضت صرف عشقِ حقیقی اور ترکِ دنیا کے لیے نہیں ہوتی۔ بلکہ کسی بھی مقصد کے حصول کے لیے مناسب وسائل کو جمع کرنے کی صلاحیت کی خاطر جہد و ریاضت اختیار کی جاتی ہے۔ اور اس میں سب سے بڑا ہتھیار یکسوئی اور اطمینان کا حاصل ہوتا ہے۔ پھر مقصد آپ کا دنیاوی علوم کا حصول ہو، دینی علوم، شعر و ادب پر یا دنیا کے کسی موضوع پر بھی آپ کو دسترس حاصل کرنی ہو، آپ با آسانی اپنے مقاصد کے حصول میں مصروف رہ سکتے ہیں۔ ایک ایک وقت میں سیکڑوں موضوعات کو اپنا شغل بنایا جاسکتا ہے۔ ایسے عالم میں آپ کا ایک صفحہ علم دوسروں کے سیکڑوں صفحات کے علم سے بڑا ثابت ہوتا ہے۔

عام طور پر انسان دنیا میں جس چیز کی جانب توجہ کرتا ہے، جو چیز دیکھتا ہے، سنتا ہے، سمجھتا ہے اس کا اتصال کئی دیگر چیزوں کے ساتھ ہوتا ہوا دماغ تک پہنچتا ہے۔ مادہ شعور نہیں رکھتا، بصیرت سے عاری ہے۔ اس لیے مادہ خود اپنی ذات میں کامل (پرفیکٹ) ہے۔ پانی کو لیجئے، پانی 760 ٹار پر 100 ڈگری سینٹی گریڈ پر ابلے گا۔ وہ کبھی غلطی نہیں کرے گا۔ وہ غلطی کر ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ وہ منتشر نہیں، وہ مشتعل نہیں ہے۔ وہ ایک وقت میں صرف ایک ہی طرف، ایک ہی جانب، ایک ہی طرح کا برتاؤ کرتا ہے۔ لیکن انسان پر سیکڑوں چیزیں ایک ہی وقت میں اثر انداز ہیں۔ پھر ایک چیز کے اثر کی بنیاد میں کچھ اور چیز پنہاں ہے۔ مثلاً انسان غصے سے متاثر ہے۔ لیکن غصے کے لیے بنیاد میں کچھ "کافی وجوہات" کا ہونا (جو اس غصے کو جنم دیتی ہے اور جو اس کے ظہور کا ذریعہ بنتی ہے) ضروری ہے۔ اسی طرح خوشی کا مسئلہ ہے۔ یہ اثر انگیز چیزیں بعض اوقات اس شدت سے انسان کے اندر اتر جاتی ہیں کہ یکسوئی کبھی کسی صورت حاصل نہیں ہوتی۔ یعنی جس چیز پر یکسوئی کی ضرورت ہے وہاں کئی رستوں سے اثر کرنے والی چیزیں آپ کو یکسوئی حاصل نہیں کرنے دیتیں، بلکہ آپ کو مشتعل رکھا کرتی ہیں۔ انہی کو قابو کرلیا جائے اور اثر انگیز چیزوں کو خود پر اثر کرنے سے روکا جاسکے تو یکسوئی حاصل ہوجاتی ہے۔
نیورولوجی میں انکزائیٹی ڈس آرڈر (anxiety disorder) اور پینک (panic) وغیرہ کے مریضوں کو عام طور پر SSRIS دی جاتی ہیں۔ جن کا کام صرف اتنا ہے کہ دماغی نیورو ٹرانسمٹرز کو آپس میں ہم کلامی سے وقتی طور پر دور کردیا جائے۔ لیکن اس کی اصل کیمائی کیفیت کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا۔ البتہ اشتعال کی تسکین کی خاطر ہم سب جانتے ہیں کہ یوگا ایک بہترین عمل ہے، جو کام دوائیں نہیں کرسکتیں وہ کام یوگا، مراقبہ وغیرہ کرتے ہیں۔ لاکھوں کروڑوں لوگ اس سے مطمئن بھی ہیں اور بہت سے لوگ اسے پلاسیبو اثرات کہہ کر رد کردیتے ہیں۔ لیکن ایک بات اہم ہے، دماغ اتنی عجیب شئے ہے کہ اگر نہ ماننا ہو تو کسی تریاق کی نہ مانے، اور ماننا ہو تو یہ زہر کا علاج گنے کے رس سے کرلے۔ 

مزید تفصیلات کے لیے صوفی ازم، روحانیات وغیرہ اور یوگا پر بہت سی اردو، انگریزی، ہندی اور سنسکرت کتابیں ہیں۔ مذہبی مراقبے بھی ہیں، غیر مذہبی مراقبے بھی ہیں۔ ان سب باتوں میں دھیان صرف اپنی استعداد کا رکھنا ہوتا ہے۔ کم از کم اتنا علم ہو کہ صحیح و غلط کی تمیز رہے۔
باقی اگر دماغی سکون اور وقتی بے چینی کو ختم کرنا مقصود ہے تو مارکیٹ میں اینٹی ڈی پریزینٹس، نیند اور نشہ آور ادویات کی بھر مار ہے۔

بدھ، 27 اگست، 2014

دورانِ بحث زیرِ غور رکھنے کے لیے چند معروضات۔ (ایک استفسار کے جواب میں )

کسی بھی نظریے کا مطلق رد کرنا مناسب نہیں۔

کسی نظریے کی تردید در حقیقت بحث میں اس کے اثبات ہی کی راہ کھولتی ہے۔

کسی نظریے کی تردید سے بہتر ہے کہ متفق علیہ قضایا قائم کرکے اصولی طور پر اپنا نظریہ پیش کیا جائے۔

اپنے نظریہ کو اپنی رائے کی صورت میں پیش کیجئے، کسی پر تسلط مناسب نہیں۔

رائے کو پیش کرنے کے لیے شائستہ اطوار و انداز اپنائیں۔

مدلل گفتگو اور جارحانہ بحث میں تمیز کیجئے۔

اپنے مقابل کو بات مکمل کرنے کا پورا موقع دیجیے۔

کسی خاص لفظ پر اپنے مقابل کی گرفت کرکے کوئی حجت قائم نہ کیجیے کہ سامنے والا کسی تردد کا شکار ہوجائے. یہ روش مناسب نہیں۔

پوری کوشش کیجیے کہ مکالمہ مقابلہ نہ بن پائے، اگر ایسا ہوتو گفتگو ختم کردیجیے، اگلے موقع کا انتظار کریں۔

-مزمل شیخ

کرب، دل دلگی اور محبت

انسان کی کُل کہانی یہی ہے کہ وہ تنہا پیدا ہوتا ہے، تنہا ہی جیتا ہے، اور تنہا ہی مر جاتا ہے۔ درمیان میں محبت، انسیت، اور دوسرے روایتی رشتے ناطے صرف ایک خود فریبی ہے، شاید اس لیے کہ اِس خرابے میں تنہائی کا احساس ذرا کم ہو جائے اور دل لگا رہے۔ یہی "دل لگا لینا" شاید محبت، دوستی، پیار وغیرہ کے ناموں سے مشہور ہے۔

-مزمل شیخ

قرب و جوار کی مستی

قرب کی مستی نے بعد کے افسوس کو چھپا رکھا ہے. اکثر لوگ اس سے آگے دیکھ ہی نہیں پاتے.
وہ دیکھنا چاہتے ہی نہیں ہیں.

-مزمل شیخ.

جمعہ، 15 اگست، 2014

غیر جانب داری اور مذہب


غیر جانب داری صرف تشکیک کی جانب لے کر جاتی ہے۔ جس وقت آپ "فیصلہ" کرتے ہیں تو آپ کا ایک مکمل فیصلہ آپ کا ایک مکمل 'مذہب' بن جاتا ہے۔
کچھ لوگوں کا آخری فیصلہ صرف تشکیک ہے۔
یعنی کچھ لوگوں کا "مذہب" تشکیکیت ہے۔

-مزمل شیخ

جمعرات، 14 اگست، 2014

صحیح و غلط کا فیصلہ

صحیح اور غلط کے فیصلے میں انسان کے نظریات کے جانبدارانہ رویّے کا مرکزی کردار ہے۔ تحقیق تقلید سے پہلے ممکن نہیں۔ اور تقلید کے سائے میں غیر جانبدارانہ فیصلہ ممکن نہیں۔

ہر انسان کا ایک مذہب ہے۔ جس کا کوئی مذہب نہیں اس کا مذہب بھی "لامذہبیت" کی "جانب داری" سے پھلتا پھولتا ہے۔

"نظریہ" اور "مذہب" ہم معانی ہیں۔

اکثر لوگوں کا مذہب ان کے باطنی انتشار کی تسکین ہے۔

مزمل شیخ

فیس بک پوسٹ

فرقہ واریت اور ہمارے خطیب

جس وقت دیوبندی خطیب دیوبندیت کی حقانیت، بریلوی خطیب بریلویت کی حقانیت اور غیر مقلد خطیب غیر مقلدیت کی حقانیت کے دلائل سے عوام کو مالامال کرنے کی بجائے سب مل کر اسلام کی حقانیت پر بات کرنا شروع ہوجائیں گے اور اپنے مسلک کی برتری کی بجائے اسلام کی برتری کو اپنے خطاب کا موضوع بنالیں گے اس دن اسلام کی سربلندی کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
ہماری بد قسمتی ہے کہ ہماری گھٹی میں یہ بات پڑ چکی ہے کہ ہمارا مسلک ہی عین اسلام ہے۔ اور نتیجہ اس سوچ کی صورت میں نکلتا ہے کہ جب ہمارے مسلک کی حقانیت ثابت ہوجائے تو گویا عین اسلام کی حقانیت ثابت ہوگئی ہے۔
بہت سچی بات یہ ہے کہ ہماری فرقہ وارانہ اور مسلکی مناظرانہ طبیعت نے ہمارے مزاج میں ایک خطاکار مسلمان سے جس قدر نفرت پیدا کی ہے اتنی نفرت ہم کسی ملحد یا کافر سے بھی نہیں کر پاتے۔ اس صورت میں ایک نظریاتی مخالف مسلمان ہمارے نزدیک ایک کافر سے بدتر بن جاتا ہے۔

-مزمل شیخ

فیس بک پوسٹ

سائنس اور کائنات کی اکائی

عجیب تر بات یہ ہے کہ سائنس نے جس قدر ترقی کی اسی قدر تصوف کے نظریات عجیب طریقے سے سائنس سے ملتے گئے اور ملتے جا رہے ہیں. کائنات کثرت سے وحدت کی طرف جا رہی ہے. ہر چیز کا تصور اپنے کلیدہ ماخذ کی طرف بڑھ رہا ہے. یوں لگتا ہے کہ ایک وقت تمام کائنات ایک بنیادی اکائی میں گم ہوکر اپنی اصل شناخت کو کھو بیٹھے گی. یہ بڑا عجیب مرحلہ ہے جس نے مشاہداتی اور استقرائی دنیا کو بھی تصوف سے ملا دیا.

مزمل شیخ

فیس بک پوسٹ

حق گوئی کا فریب

حق گوئی کا فریب بھی بڑا قاتل اور خوب رو حسیناؤں جیسا ہوتا ہے۔
کوئی بھی انسان حق گو صرف اپنے آپ پر مسلط شدہ حالات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کے خلاف اگر حق بات بھی آجائے تو یا تو وہ خاموشی اختیار کرتا ہے یا پھر اسے مردود قرار دیتا ہے۔
یعنی حق گوئی کا کل سرمایہ صرف آپ کے مزاج کے تحت نشو نما پاتا ہے. اور اس کے اصول آپ پر مسلط شدہ حالات طے کرتے ہیں۔
اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کے اوپر جو حالات مسلط کیے جاتے ہیں وہی آپ کو مجبور کرتے ہیں کہ کسی بات کے قبول و رد کے لیے آپ نے کونسے اصولوں کا انتخاب کرنا ہے۔

-مزمل شیخ

فیس بک پوسٹ

اختلاف اور مخالف شخصیات

اختلافی مسائل اور مخالف شخصیات سے ہمارے نظریات اور مسائل جب تقابل میں آتے ہیں تو اس وقت ہمارے ذہن میں صرف لفظ "اختلاف" گردش کر رہا ہوتا ہے۔ اکثر لوگ اپنے نظریاتی مخالفین کی باتوں سے صرف "کیڑے" چننے میں مصروف رہ کر اچھائیوں کو یکسر نظر انداز کرنے پر تُل جاتے ہیں۔ اگر ہم صرف "اچھائیوں" کو چننے میں مصروف ہوجائیں اور "کیڑوں" کو یکسر نظر انداز کردیں تو ایک وقت آئے گا جب صرف "اچھائیاں" رہ جائیں گی، اور "کیڑے" اپنے آپ مر جائیں گے۔

مزمل شیخ

فیس بک پوسٹ
سچ یہ کہ کچھ لوگ چیزوں کو دوسرے ہزاروں لوگوں سے پہلے ہی بھانپ لیا کرتے ہیں. دوسروں کو ان الفاظ کی حقیقی عبارت تک پہنچنے کے لیے بہت لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے.

مزمل شیخ

فیس بک پوسٹ

ڈھونڈنا اور پانا

مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ زندگی کی دوڑ میں کچھ نہ "پانے" والے, کچھ نہ "ڈھونڈنے" والوں سے ہمیشہ بہتر تھے.

-مزمل شیخ

فیس بک پوسٹ

ناصحین، مصلحین اور عوام

وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ عوام کو سچ کو بتانے میں ناصحانہ یا مصلحانہ انداز کو ترک کر دیا جائے۔ اب ناصحین اور مصلحین کی عوام کو ضرورت نہیں۔ آپ کے وعظ و نصائح اور آپ کی اصلاح کی ضرورت اب کسی کو نہیں۔ کم از کم ایسی صورت میں جب آپ خود وعظ و نصائح سننے کا نہ حوصلہ رکھتے ہوں نہ ضرورت سمجھتے ہوں، ایسے میں کسی دوسرے کی اصلاح چہ معنی دارد؟
اس لیے بہتر یہ ہے کہ اس انداز کو ترک کیجئے، تنقید کھل کر کیجئے یا امن اور محبت کا نہ صرف پیغام دیجئے بلکہ اسے عمل میں لائیے۔

-مزمل شیخ

فیس بک پوسٹ

حصولِ تسکین

کوئی انسان محبت کا متلاشی نہیں۔ بلکہ ہر انسان "تسکین" چاہتا ہے۔ اپنی ذات کی تسکین، اپنی روح کی تسکین، اپنے دماغی اور جسمانی انتشار، بے کیفی و بے کلی کی تسکین۔ یہ تسکین ایسا آفاقی لفظ ہے جس میں دنیا کے تمام انسانوں کا بیک وقت احاطہ ممکن ہو پاتا ہے۔

اب کوئی کسی سے محبت کر کے تسکین پاتا ہے، کوئی پیسہ اور دولت حاصل کرکے تسکین پاتا ہے، کوئی کسی کو راحت و آرام دے کر تسکین حاصل کرتا ہے اور کوئی کسی کی راحت چھین کر۔ غرض جتنی نفرت ہے وہ بھی اسی تسکین کی تلاش میں نکلے دوڑ دھوپ کرنے والے انسان کی وجہ سے ہے۔ اور محبت، امن، سلامتی کو بھی اسی "حصولِ تسکین" سے علاقہ ہے۔

-مزمل شیخ

فیس بک پوسٹ

لفاظی یا معقولیت

شخصی تعصب سے قطع نظر، لوگ قابلیت سے زیادہ "الفاظ" پر دسترس رکھنے والوں سے خائف و مرعوب رہتے ہیں۔
لفاظی ایک ہنر ہے. کچھ غیر معقول لوگ بھی ایسے ہیں جو لفاظی سے جیت جاتے ہیں. حالانکہ بہت لوگ معقولیت میں ان سے ہزاروں گنا بڑے ہیں.

-مزمل شیخ

فیس بک پوسٹ

ہفتہ، 2 اگست، 2014

عشق کی تعریف

عشق تحت الشعور کی دنیا میں کسی رشتے کے جڑ جانے کے بعد دنیا میں اس کے اثرات کی انتہائی شکل کا نام ہے۔

مزمل شیخ