کائنات میں صرف ہم اپنے آپ کو معاف کرسکتے ہیں. کسی دوسرے کو معاف کرنا بہت سنگین مرحلہ ہے. انسان اپنے آپ میں اس قدر رنجور اور تھکا ہوا ہے کہ وہ اپنے آپ کے علاوہ کسی کو مظلوم سمجھنے سے قاصر ہے. یہ عجیب پر اسرار مقام ہے جہاں انسان کی اپنی ترجیحات ہی کئی مختلف صورتوں میں جلوہ گر ہوتی ہیں. ایسی ایسی صورتیں سامنے آتی ہیں کہ بعض وقت دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ یہ دوسروں کے لیے انسانیت کا درد اپنے دل میں رکھے ہوئے ہیں. حالانکہ کائنات کا ذرہ ذرہ ہر ہر قطرہ ابدی طور پر اپنی ذات کی تسکین کی دوڑ دھوپ میں مصروف ہے. یہ سارا اکتساب صرف اپنی ذات کے لیے ہے. ایسی ذات جو کرب و بے چینی سے ہمیشہ کے لیے غیر مطمئن رہنے پر لکھی جاچکی ہے.
وہ ہمیشہ غیر مطمئن ہی رہے گی. کوئی اسے مطمئن نہیں کرسکے گا. کبھی بھی نہیں.
مزمل شیخ
وہ ہمیشہ غیر مطمئن ہی رہے گی. کوئی اسے مطمئن نہیں کرسکے گا. کبھی بھی نہیں.
مزمل شیخ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں