جس وقت دیوبندی خطیب دیوبندیت کی حقانیت، بریلوی خطیب بریلویت کی حقانیت اور غیر مقلد خطیب غیر مقلدیت کی حقانیت کے دلائل سے عوام کو مالامال کرنے کی بجائے سب مل کر اسلام کی حقانیت پر بات کرنا شروع ہوجائیں گے اور اپنے مسلک کی برتری کی بجائے اسلام کی برتری کو اپنے خطاب کا موضوع بنالیں گے اس دن اسلام کی سربلندی کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
ہماری بد قسمتی ہے کہ ہماری گھٹی میں یہ بات پڑ چکی ہے کہ ہمارا مسلک ہی عین اسلام ہے۔ اور نتیجہ اس سوچ کی صورت میں نکلتا ہے کہ جب ہمارے مسلک کی حقانیت ثابت ہوجائے تو گویا عین اسلام کی حقانیت ثابت ہوگئی ہے۔
بہت سچی بات یہ ہے کہ ہماری فرقہ وارانہ اور مسلکی مناظرانہ طبیعت نے ہمارے مزاج میں ایک خطاکار مسلمان سے جس قدر نفرت پیدا کی ہے اتنی نفرت ہم کسی ملحد یا کافر سے بھی نہیں کر پاتے۔ اس صورت میں ایک نظریاتی مخالف مسلمان ہمارے نزدیک ایک کافر سے بدتر بن جاتا ہے۔
-مزمل شیخ
فیس بک پوسٹ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں