کسی بھی نظریے کا مطلق رد کرنا مناسب نہیں۔
کسی نظریے کی تردید در حقیقت بحث میں اس کے اثبات ہی کی راہ کھولتی ہے۔
کسی نظریے کی تردید سے بہتر ہے کہ متفق علیہ قضایا قائم کرکے اصولی طور پر اپنا نظریہ پیش کیا جائے۔
اپنے نظریہ کو اپنی رائے کی صورت میں پیش کیجئے، کسی پر تسلط مناسب نہیں۔
رائے کو پیش کرنے کے لیے شائستہ اطوار و انداز اپنائیں۔
مدلل گفتگو اور جارحانہ بحث میں تمیز کیجئے۔
اپنے مقابل کو بات مکمل کرنے کا پورا موقع دیجیے۔
کسی خاص لفظ پر اپنے مقابل کی گرفت کرکے کوئی حجت قائم نہ کیجیے کہ سامنے والا کسی تردد کا شکار ہوجائے. یہ روش مناسب نہیں۔
پوری کوشش کیجیے کہ مکالمہ مقابلہ نہ بن پائے، اگر ایسا ہوتو گفتگو ختم کردیجیے، اگلے موقع کا انتظار کریں۔
-مزمل شیخ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں