حق گوئی کا فریب بھی بڑا قاتل اور خوب رو حسیناؤں جیسا ہوتا ہے۔
کوئی بھی انسان حق گو صرف اپنے آپ پر مسلط شدہ حالات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کے خلاف اگر حق بات بھی آجائے تو یا تو وہ خاموشی اختیار کرتا ہے یا پھر اسے مردود قرار دیتا ہے۔
یعنی حق گوئی کا کل سرمایہ صرف آپ کے مزاج کے تحت نشو نما پاتا ہے. اور اس کے اصول آپ پر مسلط شدہ حالات طے کرتے ہیں۔
اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کے اوپر جو حالات مسلط کیے جاتے ہیں وہی آپ کو مجبور کرتے ہیں کہ کسی بات کے قبول و رد کے لیے آپ نے کونسے اصولوں کا انتخاب کرنا ہے۔
-مزمل شیخ
فیس بک پوسٹ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں