خود اپنی ذات کے سوز کا ادراک جب تک حاصل نہ ہو انسان اپنی صفاتِ پاکیزہ کے مراتب نہیں پاسکتا۔ یہ سوز ہر ایک میں ہوتا ہے. بس کچھ لوگ اس کو آنچ دینا اور بھڑکانا نہیں جانتے۔
مائل ہونے کی بات ہے۔ کچھ لوگ اس جانب مائل ہی نہیں ہوتے۔
مائل ہونے کی بات ہے۔ کچھ لوگ اس جانب مائل ہی نہیں ہوتے۔
سوز محسوسات کا وہ مقام ہے جہاں انسان کو ظاہر کی چکا چوند متاثر نہیں کرتی۔ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ کرب میں مبتلا پاتا ہے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے۔ انسان مطمئن تب ہی رہ سکتا ہے جب کہ وہ بے حسی کو خود پر طاری کرلے۔ ظاہر کی مستی اگر تمہیں تمہاری ذات اور تمہاری اوقات کو بھلانے میں کامیاب ہوگئی ہے، وہ تمہیں مسرور رکھتی ہے تو تم کبھی اپنی ذات کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ انسان صرف ایک گوشت پوست کے جسم کا نام نہیں ہے۔ یہ اتنی قوت رکھتا ہے کہ قوانینِ کائنات کو اپنی نگاہِ سوز سے متصرف کردے۔ لیکن معاملہ اس کے الٹ ہے۔ یہ حقیقتِ کائنات کو ظاہر اور عقل پر تولتا ہے۔ لیکن جب عقل کامل ہی نہیں اور علم کی وہ وسعت جو یکسوئی اور استقلال، جہد و ریاضت سے حاصل ہوتی ہے وہی اس کے لیے نا قابلِ تسخیر رہی تو پھر انسان گوشت پوست کا جسم ہی ہے۔ اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔
اب سوز کے مختلف مدارج ہیں۔ لیکن سب کا ماخذ اپنی اکائی میں ایک ہی ہے۔ سوز کا پہلا درجہ انسان کو مغموم کرتا ہے، اور آخری درجہ مجذوب کردیتا ہے۔
-مزمل شیخ
اب سوز کے مختلف مدارج ہیں۔ لیکن سب کا ماخذ اپنی اکائی میں ایک ہی ہے۔ سوز کا پہلا درجہ انسان کو مغموم کرتا ہے، اور آخری درجہ مجذوب کردیتا ہے۔
-مزمل شیخ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں