جمعرات، 14 اگست، 2014

حصولِ تسکین

کوئی انسان محبت کا متلاشی نہیں۔ بلکہ ہر انسان "تسکین" چاہتا ہے۔ اپنی ذات کی تسکین، اپنی روح کی تسکین، اپنے دماغی اور جسمانی انتشار، بے کیفی و بے کلی کی تسکین۔ یہ تسکین ایسا آفاقی لفظ ہے جس میں دنیا کے تمام انسانوں کا بیک وقت احاطہ ممکن ہو پاتا ہے۔

اب کوئی کسی سے محبت کر کے تسکین پاتا ہے، کوئی پیسہ اور دولت حاصل کرکے تسکین پاتا ہے، کوئی کسی کو راحت و آرام دے کر تسکین حاصل کرتا ہے اور کوئی کسی کی راحت چھین کر۔ غرض جتنی نفرت ہے وہ بھی اسی تسکین کی تلاش میں نکلے دوڑ دھوپ کرنے والے انسان کی وجہ سے ہے۔ اور محبت، امن، سلامتی کو بھی اسی "حصولِ تسکین" سے علاقہ ہے۔

-مزمل شیخ

فیس بک پوسٹ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں