بدھ، 24 ستمبر، 2014

انتہائی سادہ سی بات ہے۔

گناہ گار ٹھہرائے گئے معصوم لوگ اور بے گناہ ٹھہرائے گئے مجرمین۔
اندھے، گونگے اور بہرے ظالم بادشاہ۔
نا انصافیاں کرنے والے حکمران۔
پیٹھ پیچھے وار کرنے والے دغا باز اور ذلیل لوگ۔
اگر کوئی اتنی عقل رکھتا ہے کہ ان لوگوں کو برا اور بدضمیر سمجھتا ہے یا کسی کو قابل رحم سمجھتا ہے تو اسے اپنے اسی سمجھ رکھنے والےدماغ سے مان لینا چاہیے کہ ان سب کا جلد ہی حساب و کتاب ہونے والا ہے۔
لیکن اگر کوئی اپنے دماغ سے ان اخلاقی اقدار کی تمیز و تفہیم سے قاصر ہے تو بے شک وہ خدا اور حیات بعد الممات کا انکار کردے۔

-مزمل شیخ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں