حقیقت میں انسان عزت و شہرت کی اتنی حرص میں مبتلا ہے کہ اس کے لیے کسی بھی حد تک جاتا ہے، رعب و دبدبے کے لیے انسان طاقت، پیسہ، گھر، جاگیر اور یہاں تک کہ اپنا حلیہ تک بدل ڈالتا ہے۔ اس کے کپڑوں میں پہلے سے زیادہ کَلَف آجاتا ہے۔
لیکن عزت و شہرت میں ساتھ رہنے والے لوگ اگر برے وقت میں اس کا ساتھ چھوڑ جائیں تو تمام دنیا کو مطلبی اور لالچی ٹھہراتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ زمانے میں وہ جن چیزوں سے معتبر بنا ہے اگر وہ چیزیں چلی گئیں تو اس کا اعتبار بھی تو جاتا ہی رہا۔ پھر لوگوں سے شکایت کیسی؟
-مزمل شیخ
لیکن عزت و شہرت میں ساتھ رہنے والے لوگ اگر برے وقت میں اس کا ساتھ چھوڑ جائیں تو تمام دنیا کو مطلبی اور لالچی ٹھہراتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ زمانے میں وہ جن چیزوں سے معتبر بنا ہے اگر وہ چیزیں چلی گئیں تو اس کا اعتبار بھی تو جاتا ہی رہا۔ پھر لوگوں سے شکایت کیسی؟
-مزمل شیخ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں