عجیب تر بات یہ ہے کہ سائنس نے جس قدر ترقی کی اسی قدر تصوف کے نظریات عجیب طریقے سے سائنس سے ملتے گئے اور ملتے جا رہے ہیں. کائنات کثرت سے وحدت کی طرف جا رہی ہے. ہر چیز کا تصور اپنے کلیدہ ماخذ کی طرف بڑھ رہا ہے. یوں لگتا ہے کہ ایک وقت تمام کائنات ایک بنیادی اکائی میں گم ہوکر اپنی اصل شناخت کو کھو بیٹھے گی. یہ بڑا عجیب مرحلہ ہے جس نے مشاہداتی اور استقرائی دنیا کو بھی تصوف سے ملا دیا.
مزمل شیخ
فیس بک پوسٹ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں