قوتِ ارادی کیا چیز ہے؟ کسی چیز کے کر گزرنے کی ٹھان کر اس میں استقلال پر قائم رہنا۔
بڑے لوگ کہہ گئے ہیں کہ سو کرامات سے بہتر ایک استقامت ہے۔ جس میں استقامت ہو وہ کرامت رکھنے والے سے بڑا ہے۔
اب یہ طے آپ نے کرنا ہے کہ آپ یکسوئی اور استقامت کو کس سمت سے دیکھ رہے ہیں اور کس طرح کی یکسوئی کا حصول چاہتے ہیں۔
یکسوئی کا حصول کئی طریقوں پر ممکن ہے۔ جن میں چند طریقے مختصراً میں عرض کروں گا۔:
بڑے لوگ کہہ گئے ہیں کہ سو کرامات سے بہتر ایک استقامت ہے۔ جس میں استقامت ہو وہ کرامت رکھنے والے سے بڑا ہے۔
اب یہ طے آپ نے کرنا ہے کہ آپ یکسوئی اور استقامت کو کس سمت سے دیکھ رہے ہیں اور کس طرح کی یکسوئی کا حصول چاہتے ہیں۔
یکسوئی کا حصول کئی طریقوں پر ممکن ہے۔ جن میں چند طریقے مختصراً میں عرض کروں گا۔:
خواہشات کی تکمیل۔۔۔ یہ یکسوئی کا ایک ایسا راستہ ہے کہ اگر انسان کو حاصل ہوجائے تو یکسوئی حاصل ہونا واجب ہوتا ہے۔ اگر کوئی انسان اپنی امنگوں اور خواہشات کی تکمیل کر کے خواہشات سے اکتا چکا ہے تو ایسا انسان استقلال اور یکسوئی کو ضمنی مرکبات (by-products) کی صورت میں حاصل کرلیتا ہے۔ پھر وہ جس کام کی طرف بھی چلتا ہے اس میں کوئی رکاوٹ اور بھٹک جانے کا خطرہ پیشِ نظر نہیں رہتا۔ کیونکہ وہ اشتعال و انتشار کے تمام در بند کرچکا ہے۔ کسی بھی نو آموز کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ درمیان کی رونقیں اور رنگینیاں ہوتی ہیں جو اس نے کبھی دیکھی نہیں ہوتیں۔ خواہشات کو مارنا اور آگے بڑھنا انسان کو اکثر منتشر کردیتا ہے، اسکی تسکین ممکن نہیں ہوتی۔ لیکن اگر ان خواہشات کی پیاس بجھ جائے تو کسی رستے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں رہتی۔
واضح رہے کہ اس وقت موضوع صرف اور صرف یکسوئی یا استقلال ہے۔ کوئی دوسرا موضوعاتی اختلاف فی الوقت محلِ نظر ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت موضوع صرف اور صرف یکسوئی یا استقلال ہے۔ کوئی دوسرا موضوعاتی اختلاف فی الوقت محلِ نظر ہے۔
تزکیۂ نفس۔۔۔ قوتِ ارادی اور یکسوئی کے حصول کا دوسرا طریقہ جو صوفیائے کرام کا ہوا کرتا ہے وہ ہم سب کے عام طور پر علم میں ہوتا ہے۔ اس میں خواہشات کی تکمیل کی نہیں بلکہ نفس کو توڑنے کی مکمل سعی کی جاتی ہے، شہوات کو مغلوب کرنے، طبیعت میں لینت پیدا کرنے کی خاطر صوفیا کے مختلف طریقے ہیں جن سے یہ منازل طے ہوتی ہیں۔ اس کے لیے کوئی بہت زیادہ محنت اور لمبے چوڑے طریقے اختیار کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ مختلف معمولات سے بھی ذہنی اور روحانی یکسوئی کا حصول ممکن ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ ذکر و اذکار سے کرتے ہیں، کچھ لوگ اسمائے جمالی کی ضربوں سے یہ کام کرنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ دوسرے اور طریقے اختیار کرتے ہیں۔ فرقۂ اشراقیہ کے فلاسفہ بھی انہی جہد و ریاضت کو علوم و فنون کے حصول کا آخر اور ناگزیر ذریعہ جانتے تھے۔
یہاں اس بات کو بھی جاننا چاہیے کہ جہد و ریاضت صرف عشقِ حقیقی اور ترکِ دنیا کے لیے نہیں ہوتی۔ بلکہ کسی بھی مقصد کے حصول کے لیے مناسب وسائل کو جمع کرنے کی صلاحیت کی خاطر جہد و ریاضت اختیار کی جاتی ہے۔ اور اس میں سب سے بڑا ہتھیار یکسوئی اور اطمینان کا حاصل ہوتا ہے۔ پھر مقصد آپ کا دنیاوی علوم کا حصول ہو، دینی علوم، شعر و ادب پر یا دنیا کے کسی موضوع پر بھی آپ کو دسترس حاصل کرنی ہو، آپ با آسانی اپنے مقاصد کے حصول میں مصروف رہ سکتے ہیں۔ ایک ایک وقت میں سیکڑوں موضوعات کو اپنا شغل بنایا جاسکتا ہے۔ ایسے عالم میں آپ کا ایک صفحہ علم دوسروں کے سیکڑوں صفحات کے علم سے بڑا ثابت ہوتا ہے۔
یہاں اس بات کو بھی جاننا چاہیے کہ جہد و ریاضت صرف عشقِ حقیقی اور ترکِ دنیا کے لیے نہیں ہوتی۔ بلکہ کسی بھی مقصد کے حصول کے لیے مناسب وسائل کو جمع کرنے کی صلاحیت کی خاطر جہد و ریاضت اختیار کی جاتی ہے۔ اور اس میں سب سے بڑا ہتھیار یکسوئی اور اطمینان کا حاصل ہوتا ہے۔ پھر مقصد آپ کا دنیاوی علوم کا حصول ہو، دینی علوم، شعر و ادب پر یا دنیا کے کسی موضوع پر بھی آپ کو دسترس حاصل کرنی ہو، آپ با آسانی اپنے مقاصد کے حصول میں مصروف رہ سکتے ہیں۔ ایک ایک وقت میں سیکڑوں موضوعات کو اپنا شغل بنایا جاسکتا ہے۔ ایسے عالم میں آپ کا ایک صفحہ علم دوسروں کے سیکڑوں صفحات کے علم سے بڑا ثابت ہوتا ہے۔
عام طور پر انسان دنیا میں جس چیز کی جانب توجہ کرتا ہے، جو چیز دیکھتا ہے، سنتا ہے، سمجھتا ہے اس کا اتصال کئی دیگر چیزوں کے ساتھ ہوتا ہوا دماغ تک پہنچتا ہے۔ مادہ شعور نہیں رکھتا، بصیرت سے عاری ہے۔ اس لیے مادہ خود اپنی ذات میں کامل (پرفیکٹ) ہے۔ پانی کو لیجئے، پانی 760 ٹار پر 100 ڈگری سینٹی گریڈ پر ابلے گا۔ وہ کبھی غلطی نہیں کرے گا۔ وہ غلطی کر ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ وہ منتشر نہیں، وہ مشتعل نہیں ہے۔ وہ ایک وقت میں صرف ایک ہی طرف، ایک ہی جانب، ایک ہی طرح کا برتاؤ کرتا ہے۔ لیکن انسان پر سیکڑوں چیزیں ایک ہی وقت میں اثر انداز ہیں۔ پھر ایک چیز کے اثر کی بنیاد میں کچھ اور چیز پنہاں ہے۔ مثلاً انسان غصے سے متاثر ہے۔ لیکن غصے کے لیے بنیاد میں کچھ "کافی وجوہات" کا ہونا (جو اس غصے کو جنم دیتی ہے اور جو اس کے ظہور کا ذریعہ بنتی ہے) ضروری ہے۔ اسی طرح خوشی کا مسئلہ ہے۔ یہ اثر انگیز چیزیں بعض اوقات اس شدت سے انسان کے اندر اتر جاتی ہیں کہ یکسوئی کبھی کسی صورت حاصل نہیں ہوتی۔ یعنی جس چیز پر یکسوئی کی ضرورت ہے وہاں کئی رستوں سے اثر کرنے والی چیزیں آپ کو یکسوئی حاصل نہیں کرنے دیتیں، بلکہ آپ کو مشتعل رکھا کرتی ہیں۔ انہی کو قابو کرلیا جائے اور اثر انگیز چیزوں کو خود پر اثر کرنے سے روکا جاسکے تو یکسوئی حاصل ہوجاتی ہے۔
نیورولوجی میں انکزائیٹی ڈس آرڈر (anxiety disorder) اور پینک (panic) وغیرہ کے مریضوں کو عام طور پر SSRIS دی جاتی ہیں۔ جن کا کام صرف اتنا ہے کہ دماغی نیورو ٹرانسمٹرز کو آپس میں ہم کلامی سے وقتی طور پر دور کردیا جائے۔ لیکن اس کی اصل کیمائی کیفیت کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا۔ البتہ اشتعال کی تسکین کی خاطر ہم سب جانتے ہیں کہ یوگا ایک بہترین عمل ہے، جو کام دوائیں نہیں کرسکتیں وہ کام یوگا، مراقبہ وغیرہ کرتے ہیں۔ لاکھوں کروڑوں لوگ اس سے مطمئن بھی ہیں اور بہت سے لوگ اسے پلاسیبو اثرات کہہ کر رد کردیتے ہیں۔ لیکن ایک بات اہم ہے، دماغ اتنی عجیب شئے ہے کہ اگر نہ ماننا ہو تو کسی تریاق کی نہ مانے، اور ماننا ہو تو یہ زہر کا علاج گنے کے رس سے کرلے۔
مزید تفصیلات کے لیے صوفی ازم، روحانیات وغیرہ اور یوگا پر بہت سی اردو، انگریزی، ہندی اور سنسکرت کتابیں ہیں۔ مذہبی مراقبے بھی ہیں، غیر مذہبی مراقبے بھی ہیں۔ ان سب باتوں میں دھیان صرف اپنی استعداد کا رکھنا ہوتا ہے۔ کم از کم اتنا علم ہو کہ صحیح و غلط کی تمیز رہے۔
باقی اگر دماغی سکون اور وقتی بے چینی کو ختم کرنا مقصود ہے تو مارکیٹ میں اینٹی ڈی پریزینٹس، نیند اور نشہ آور ادویات کی بھر مار ہے۔