بدھ، 24 ستمبر، 2014

دلیل سے نظریات کا رد

کسی بھی چیز کو قبول کرنے کے لیے دلیل ہوتی ہے۔ لیکن کسی چیز پر یقین کرنے کے لیے کبھی کوئی دلیل موجود نہیں ہوتی۔ اسی لیے جہاں دل مانتا ہو وہیں یقین کرنا آسان ہے۔ دل نہیں مانتا تو دلیل ملنے کے بعد اسے توڑنے کی تگ و دو شروع ہوتی ہے۔ کوئی بھی نظریہ اور کوئی بھی عقیدہ اتنا آخری نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ ساری زندگی گزاری جاسکے۔ لیکن دل جہاں مطمئن ہو وہاں ساری زندگی گزاری جاتی ہے۔ اس ضمن میں منتخب شدہ کسی بھی نظریے کے خلاف دلائل کے رد میں انسان اپنی تمام عمر صرف کردیتا ہے۔
وضاحت:
1۔ عقل کبھی کسی کامل نظریے کا انتخاب نہیں کرسکتی۔
2۔ کسی بھی کامل نظریے کو دلائل سے کامل ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
3۔ کسی نظریے کے رد میں دلیلیں دے کر کبھی کسی نظریے کو رد نہیں کیا جاسکتا۔
4۔ کامل نظریہ اپنی تعریف اور اپنے معیارات میں ہمیشہ نامعلوم رہتا ہے۔
5۔ کسی نظریے کو قبول کرنا محض عقلی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ اس میں اطمینان کارفرما ہے۔

-مزمل شیخ

سوزِ ذات

خود اپنی ذات کے سوز کا ادراک جب تک حاصل نہ ہو انسان اپنی صفاتِ پاکیزہ کے مراتب نہیں پاسکتا۔ یہ سوز ہر ایک میں ہوتا ہے. بس کچھ لوگ اس کو آنچ دینا اور بھڑکانا نہیں جانتے۔
مائل ہونے کی بات ہے۔ کچھ لوگ اس جانب مائل ہی نہیں ہوتے۔
سوز محسوسات کا وہ مقام ہے جہاں انسان کو ظاہر کی چکا چوند متاثر نہیں کرتی۔ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ کرب میں مبتلا پاتا ہے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے۔ انسان مطمئن تب ہی رہ سکتا ہے جب کہ وہ بے حسی کو خود پر طاری کرلے۔ ظاہر کی مستی اگر تمہیں تمہاری ذات اور تمہاری اوقات کو بھلانے میں کامیاب ہوگئی ہے، وہ تمہیں مسرور رکھتی ہے تو تم کبھی اپنی ذات کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ انسان صرف ایک گوشت پوست کے جسم کا نام نہیں ہے۔ یہ اتنی قوت رکھتا ہے کہ قوانینِ کائنات کو اپنی نگاہِ سوز سے متصرف کردے۔ لیکن معاملہ اس کے الٹ ہے۔ یہ حقیقتِ کائنات کو ظاہر اور عقل پر تولتا ہے۔ لیکن جب عقل کامل ہی نہیں اور علم کی وہ وسعت جو یکسوئی اور استقلال، جہد و ریاضت سے حاصل ہوتی ہے وہی اس کے لیے نا قابلِ تسخیر رہی تو پھر انسان گوشت پوست کا جسم ہی ہے۔ اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔
اب سوز کے مختلف مدارج ہیں۔ لیکن سب کا ماخذ اپنی اکائی میں ایک ہی ہے۔ سوز کا پہلا درجہ انسان کو مغموم کرتا ہے، اور آخری درجہ مجذوب کردیتا ہے۔

-مزمل شیخ

مسلمان کی خرابی اور کافر کی اچھائی

مسلمانوں کی خرابی یہ کہ وہ اپنی خواہشات، احساسات، جذبات، معصیت اور بد چلنی کو بھی "مسلمان" کر لیا کرتے ہیں۔
کافروں کی اچھائی یہ کہ وہ اس کا فائدہ اٹھانے میں قطعاً دیر نہیں کرتے۔

-مزمل شیخ

انتہائی سادہ سی بات ہے۔

گناہ گار ٹھہرائے گئے معصوم لوگ اور بے گناہ ٹھہرائے گئے مجرمین۔
اندھے، گونگے اور بہرے ظالم بادشاہ۔
نا انصافیاں کرنے والے حکمران۔
پیٹھ پیچھے وار کرنے والے دغا باز اور ذلیل لوگ۔
اگر کوئی اتنی عقل رکھتا ہے کہ ان لوگوں کو برا اور بدضمیر سمجھتا ہے یا کسی کو قابل رحم سمجھتا ہے تو اسے اپنے اسی سمجھ رکھنے والےدماغ سے مان لینا چاہیے کہ ان سب کا جلد ہی حساب و کتاب ہونے والا ہے۔
لیکن اگر کوئی اپنے دماغ سے ان اخلاقی اقدار کی تمیز و تفہیم سے قاصر ہے تو بے شک وہ خدا اور حیات بعد الممات کا انکار کردے۔

-مزمل شیخ۔

دماغ کا کوئی مورچہ کم عقل ضرور ہے

ہر دانا اور عقل مند انسان اپنے دماغ کے کسی کونے, کسی کوچے, کسی چوکھٹ یا کسی مورچے سے کم عقل ضرور ہوتا ہے.

-مزمل شیخ

جمعہ، 12 ستمبر، 2014

انسان غیر مطمئن رہے گا

کائنات میں صرف ہم اپنے آپ کو معاف کرسکتے ہیں. کسی دوسرے کو معاف کرنا بہت سنگین مرحلہ ہے. انسان اپنے آپ میں اس قدر رنجور اور تھکا ہوا ہے کہ وہ اپنے آپ کے علاوہ کسی کو مظلوم سمجھنے سے قاصر ہے. یہ عجیب پر اسرار مقام ہے جہاں انسان کی اپنی ترجیحات ہی کئی مختلف صورتوں میں جلوہ گر ہوتی ہیں. ایسی ایسی صورتیں سامنے آتی ہیں کہ بعض وقت دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ یہ دوسروں کے لیے انسانیت کا درد اپنے دل میں رکھے ہوئے ہیں. حالانکہ کائنات کا ذرہ ذرہ ہر ہر قطرہ ابدی طور پر اپنی ذات کی تسکین کی دوڑ دھوپ میں مصروف ہے. یہ سارا اکتساب صرف اپنی ذات کے لیے ہے. ایسی ذات جو کرب و بے چینی سے ہمیشہ کے لیے غیر مطمئن رہنے پر لکھی جاچکی ہے.
وہ ہمیشہ غیر مطمئن ہی رہے گی. کوئی اسے مطمئن نہیں کرسکے گا. کبھی بھی نہیں.

مزمل شیخ

جمعرات، 11 ستمبر، 2014

تریاق اکبر

میں یہ تو نہیں کہتا کہ تم اپنی رائے بدل لو. میں تو صرف یہ کہتا ہوں کہ مزاج اور گفتگو میں اتنی شائستگی پیدا کرلو کہ تمھارا مخالف تمہاری بات کو رد کرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرے. بصورتِ دیگر خاموشی اختیار کرلو.
عاجزی و انکساری ہر زہر کے لیے تریاق کا کام کرتی ہے.

مزمل شیخ

فیس بک پوسٹ

بدھ، 3 ستمبر، 2014

عزت و شہرت اور مطلبی انسان

حقیقت میں انسان عزت و شہرت کی اتنی حرص میں مبتلا ہے کہ اس کے لیے کسی بھی حد تک جاتا ہے، رعب و دبدبے کے لیے انسان طاقت، پیسہ، گھر، جاگیر اور یہاں تک کہ اپنا حلیہ تک بدل ڈالتا ہے۔ اس کے کپڑوں میں پہلے سے زیادہ کَلَف آجاتا ہے۔
لیکن عزت و شہرت میں ساتھ رہنے والے لوگ اگر برے وقت میں اس کا ساتھ چھوڑ جائیں تو تمام دنیا کو مطلبی اور لالچی ٹھہراتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ زمانے میں وہ جن چیزوں سے معتبر بنا ہے اگر وہ چیزیں چلی گئیں تو اس کا اعتبار بھی تو جاتا ہی رہا۔ پھر لوگوں سے شکایت کیسی؟

-مزمل شیخ