اختلافی مسائل اور مخالف شخصیات سے ہمارے نظریات اور مسائل جب تقابل میں آتے ہیں تو اس وقت ہمارے ذہن میں صرف لفظ "اختلاف" گردش کر رہا ہوتا ہے۔ اکثر لوگ اپنے نظریاتی مخالفین کی باتوں سے صرف "کیڑے" چننے میں مصروف رہ کر اچھائیوں کو یکسر نظر انداز کرنے پر تُل جاتے ہیں۔ اگر ہم صرف "اچھائیوں" کو چننے میں مصروف ہوجائیں اور "کیڑوں" کو یکسر نظر انداز کردیں تو ایک وقت آئے گا جب صرف "اچھائیاں" رہ جائیں گی، اور "کیڑے" اپنے آپ مر جائیں گے۔
مزمل شیخ
فیس بک پوسٹ
جمعرات، 14 اگست، 2014
سچ یہ کہ کچھ لوگ چیزوں کو دوسرے ہزاروں لوگوں سے پہلے ہی بھانپ لیا کرتے ہیں. دوسروں کو ان الفاظ کی حقیقی عبارت تک پہنچنے کے لیے بہت لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے.
مزمل شیخ
فیس بک پوسٹ
مزمل شیخ
فیس بک پوسٹ
ڈھونڈنا اور پانا
مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ زندگی کی دوڑ میں کچھ نہ "پانے" والے, کچھ نہ "ڈھونڈنے" والوں سے ہمیشہ بہتر تھے.
-مزمل شیخ
فیس بک پوسٹ
-مزمل شیخ
فیس بک پوسٹ
ناصحین، مصلحین اور عوام
وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ عوام کو سچ کو بتانے میں ناصحانہ یا مصلحانہ انداز کو ترک کر دیا جائے۔ اب ناصحین اور مصلحین کی عوام کو ضرورت نہیں۔ آپ کے وعظ و نصائح اور آپ کی اصلاح کی ضرورت اب کسی کو نہیں۔ کم از کم ایسی صورت میں جب آپ خود وعظ و نصائح سننے کا نہ حوصلہ رکھتے ہوں نہ ضرورت سمجھتے ہوں، ایسے میں کسی دوسرے کی اصلاح چہ معنی دارد؟
اس لیے بہتر یہ ہے کہ اس انداز کو ترک کیجئے، تنقید کھل کر کیجئے یا امن اور محبت کا نہ صرف پیغام دیجئے بلکہ اسے عمل میں لائیے۔
-مزمل شیخ
فیس بک پوسٹ
اس لیے بہتر یہ ہے کہ اس انداز کو ترک کیجئے، تنقید کھل کر کیجئے یا امن اور محبت کا نہ صرف پیغام دیجئے بلکہ اسے عمل میں لائیے۔
-مزمل شیخ
فیس بک پوسٹ
حصولِ تسکین
کوئی انسان محبت کا متلاشی نہیں۔ بلکہ ہر انسان "تسکین" چاہتا ہے۔ اپنی ذات کی تسکین، اپنی روح کی تسکین، اپنے دماغی اور جسمانی انتشار، بے کیفی و بے کلی کی تسکین۔ یہ تسکین ایسا آفاقی لفظ ہے جس میں دنیا کے تمام انسانوں کا بیک وقت احاطہ ممکن ہو پاتا ہے۔
اب کوئی کسی سے محبت کر کے تسکین پاتا ہے، کوئی پیسہ اور دولت حاصل کرکے تسکین پاتا ہے، کوئی کسی کو راحت و آرام دے کر تسکین حاصل کرتا ہے اور کوئی کسی کی راحت چھین کر۔ غرض جتنی نفرت ہے وہ بھی اسی تسکین کی تلاش میں نکلے دوڑ دھوپ کرنے والے انسان کی وجہ سے ہے۔ اور محبت، امن، سلامتی کو بھی اسی "حصولِ تسکین" سے علاقہ ہے۔
-مزمل شیخ
فیس بک پوسٹ
اب کوئی کسی سے محبت کر کے تسکین پاتا ہے، کوئی پیسہ اور دولت حاصل کرکے تسکین پاتا ہے، کوئی کسی کو راحت و آرام دے کر تسکین حاصل کرتا ہے اور کوئی کسی کی راحت چھین کر۔ غرض جتنی نفرت ہے وہ بھی اسی تسکین کی تلاش میں نکلے دوڑ دھوپ کرنے والے انسان کی وجہ سے ہے۔ اور محبت، امن، سلامتی کو بھی اسی "حصولِ تسکین" سے علاقہ ہے۔
-مزمل شیخ
فیس بک پوسٹ
لفاظی یا معقولیت
شخصی تعصب سے قطع نظر، لوگ قابلیت سے زیادہ "الفاظ" پر دسترس رکھنے والوں سے خائف و مرعوب رہتے ہیں۔
لفاظی ایک ہنر ہے. کچھ غیر معقول لوگ بھی ایسے ہیں جو لفاظی سے جیت جاتے ہیں. حالانکہ بہت لوگ معقولیت میں ان سے ہزاروں گنا بڑے ہیں.
-مزمل شیخ
فیس بک پوسٹ
لفاظی ایک ہنر ہے. کچھ غیر معقول لوگ بھی ایسے ہیں جو لفاظی سے جیت جاتے ہیں. حالانکہ بہت لوگ معقولیت میں ان سے ہزاروں گنا بڑے ہیں.
-مزمل شیخ
فیس بک پوسٹ
ہفتہ، 2 اگست، 2014
عشق کی تعریف
عشق تحت الشعور کی دنیا میں کسی رشتے کے جڑ جانے کے بعد دنیا میں اس کے اثرات کی انتہائی شکل کا نام ہے۔
مزمل شیخ
مزمل شیخ
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)