جمعہ، 24 جولائی، 2015

علمی اختلاف اور اعلی اخلاق ---- مزمل شیخ بسملؔ

میں ذاتی طور پر شائستہ زبان اور لحاظ و مروت کا مکمل طور پر قائل ہوں۔ لیکن آج ایک بات آپ کے گوش گزار ضرور کرانا چاہوں گا۔ لحاظ و مروت ہے کیا چیز؟
دیکھیے میرے نزدیک یہ شائستہ زبانی اور شگفتہ مزاجی ایک خاص مقام پر پہنچ کر منافقت بن جاتی ہے۔ میرا تعلق کاروباری حلقے سے ہے۔ میں جانتا ہوں یہاں لاکھوں اور کروڑوں روپے کا ادھار ایک وقت میں چل رہا ہوتا ہے۔ اور اس درمیان ایسے بھی سیکڑوں لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے اخلاق، لحاظ، شائستگی اور زبان کی شیرینی سے پورے پورے خاندان تباہ کیے ہیں۔ کروڑوں روپے کے مالک کو یہ اخلاق والی منافقت سڑک پر لائی ہے۔ اچھے اچھے کاروباری لوگوں کو ہوٹل میں ویٹر کی نوکری کرتے دیکھا ہے۔ اور یہ کوئی بعید از قیاس بات نہیں ہے۔ تجارت پیشہ لوگ ان حقیقتوں سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں کہ کیسے کوئی کسی کے اعتماد کو چوٹ پہنچا کر آخر میں ڈیفالٹر ہو جاتا ہے۔ لیکن اس ڈیفالٹر کے ماتھے پر نہ شکن آتی ہے، نہ لہجے میں تلخی آتی ہے اور نہ اخلاقیات کا کوئی پہلو مجروح ہوتا ہے۔ لیکن جس نے اس سے معاملہ کیا ہوتا وہ بے چارہ زندہ در گور ہوجاتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ لوگوں کی ہمدردیاں پھر بھی اس ڈیفالٹر کے ساتھ ہوتی ہیں۔
جب یہی معاملہ ہم مستشرقین یا متجددین کی طرف سے دیکھتے ہیں اور انہیں عمدہ اخلاق اور بہترین لہجے میں بات کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان کی جانب ایک کشش محسوس ہوتی ہے جسے عام تعلیم یافتہ طبقہ جلدی قبول کرتا ہے۔ حالانکہ یہ طبقہ خود نہ تو دین کے بنیادی علوم سے واقف ہوتا ہے نہ اس کے ارتقائی پس منظر اور تاریخ سے اسے کوئی شناسائی ہوتی ہے۔
روایتی علمائے کرام کا ویک پوائنٹ یہ رہا کہ وہ علمی حلقوں میں تو بہت آگے رہے لیکن ایک معمولی دینی استعداد کے مسلمان تک دینی علوم کے "مزاج" کو پہنچانے میں کافی کمزور رہے۔ پھر وہ اُس زبان یا اس قلم کو استعمال میں لانے کی طرف بھی متوجہ نہیں ہوئے جس سے مسئلہ حل ہوسکتا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ جدید علوم نے انسان میں سے روحانیت اور یکسوئی کی صفت کو تباہ و برباد کر ڈالا ہے۔ اور جو مسلمان اس چیز سے متاثر ہوئے انکا شکار متجددین نے بہت اچھی طرح کرلیا۔ یوں یہ بحث و مباحثہ اور مناظرہ کا ایک نیا در کُھل گیا۔
اب میں بذات خود ایسے مقام پر کھڑا ہوں جہاں نہ میں یہ فیصلہ دے سکتا ہوں کہ ان میں سے کون مکمل طور پر صحیح ہے۔ اور نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ کون مکمل طور پر غلط ہے۔
لیکن ایک بات جو چشم تصور سے دیکھتا ہوں وہ یہ کہ آج کے متجددین کا دین کے حوالے سے جو رویہ ہے اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہیں۔ وہاں دل کا سکون نہیں ہے صرف دماغی انتشار کی تسکین کی خاطر دین کے تمام اصول و فروع ایک ایک کرکے اگر علمی طور پر نہیں تو نفسیاتی طور پرکھوکھلے کیے جارہے ہیں۔ آج وہ عام لوگ جو دین کے مزاج سے معمولی واقفیت بھی نہیں رکھتے، وہ دین کے ان اصولوں پر طعن دراز کرتے نظر آتے ہیں جن پر آئمہ مجتھدین، محدثین اور فقہاء نے تیرہ سو سال میں کبھی کوئی کلام نہیں کیا۔ لیکن اخلاقیات اپنے عروج پر ہے۔ زبان کی شائستگی چوٹی پر ہے۔
میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اعلی اخلاق کا یہ ہتھیار صرف ایمان کو کمزور کرنے کی خاطر بڑی مہارت سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اور آخر میں ہاتھ اونچے کرکے صرف یہ نعرہ لگایا جاتا ہے کہ "علمی اختلاف ہے میاں!!!!"

فیس بک پوسٹ

بدھ، 22 جولائی، 2015

گردشِ دوراں کی چائے --- مزمل شیخ بسملؔ

میں چائے کے معاملے میں ہمیشہ سے حساس طبیعت واقع ہوا ہوں۔
اب آپ پوچھیں گے کہ کوئی ایسا معاملہ بھی ہے جس کے حوالے سے میری طبیعت حساس نہ ہو؟ لیکن اس سوال کا میرے پاس کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ہے۔
عالم یہ ہے کہ اپنے گھر میں ہوں تو چائے خود بناتا ہوں اور کسی دوسرے گھر میں چائے اگر پینی پڑ جائے تو گمان یہی رہتا ہے کہ آج پھر سے چائے کو پینے کی بجائے ضائع ہی کرنا پڑے گا۔ یہ ضائع کرنا بھی انہی معنوں میں ہے جس طرح ایک ناتجربہ کار سگریٹ نوش کسی سگریٹ کو ناک اور منہ سے صرف دھوئیں خارج کرکے ضائع کرتا ہے۔ اسی طرح مجھے بھی چائے پینے کی بجائے منہ میں انڈیل کر ضائع کرنی پڑتی ہے۔ پھر چائے تو چائے ہے۔ اور میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ جو چائے پینا نہیں جانتا وہ چائے بنانے کا اہل بھی نہیں ہے۔ پینے کے لیے بھی ایک خاص جمالیاتی حس درکار ہے جو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتی۔
گاڑھے دودھ اور معتدل یا کچھ زیادہ پتی سے بنائی گئی چائے کی ایک خاصیت یہ ہے کہ عموماً پتی کی کڑواہٹ دودھ کی شیرینی سے مل کر ایک سماں باندھ دیتی ہے جس کا حقیقی لطف اہلِ ذوق ہی اٹھا سکتے ہیں۔ کیونکہ اس چائے میں لگاؤ اور آشنائی کی صفت بدرجہا زائد موجود ہوتی ہے اور اس کا احساس زبان پر کافی دیر تک محسوس ہوتا رہتا ہے۔ ایسی ہی چائے ایک زمانے سے پیتے پیتے کچھ تلخیاں اور کچھ حلاوتیں خون میں اس طرح رچ بس گئی ہیں کہ جن کے مرکب نے دل میں ایک "میٹھا سا درد" ٹھہرا دیا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ جو لوگ زندگی میں صرف خوشیوں کے طلبگار ہیں وہ بھلا کس قدر بد ذوق ہیں یا پھر بے حس ہیں جو زندگی میں اس ہلکے سے کسیلے پن کے لطف اٹھانے کی جرات سے بھی محروم ہیں۔ وہ شاید نہیں جانتے کہ خوش ذائقگی در حقیقت حلاوت اور بے نمکی، حرکت اور سکون، احساس اور بے حسی، نزاکت اور بے باکی وغیرہ میں درمیان کی کیفیت کا نام ہے۔
ابھی دو سال پہلے تک کی بات ہے کہ روز رات کو دس بجے سے کوئی ایک یا ڈیڑھ بجے تک تایا کی چائے کی دکان پر ہمارا ڈیرا ڈنڈا ہوا کرتا۔ وہاں کی چائے اپنے مزاج سے ایسے میل کھا گئی تھی جیسے اپنے ہی ہاتھ کی بنی ہوئی چائے ہو۔ ان تین چار گھنٹوں میں دوستوں کے بیچ کئی موضوعات زیر گفتگو آتے، کئی شخصیات کو لتاڑا جاتا، کئی مسالک پر بحث ہوتی۔ دوستوں میں تین تو ایسے تھے جن کی بیٹھک مستقل ہوتی اور باقی سب اپنی دلچسپی سے آکر بیٹھ گئے اور اٹھ کر چلے گئے (Visiting Faculty)۔ البتہ تایا کے بعد وہ چائے پھر نصیب نہیں ہوئی، اور نہ وہ بزم آرائیاں ہی میسر آسکیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک کم از کم کراچی میں تو شاید ہر علاقے میں ایک چائے کا ہوٹل ضرور ایسا ہوتا تھا جہاں آپ کو سیاست سے لے کر فلسفہ، شاعری سے نثر نگاری، مذہب سے الحاد، مدرسے سے سکول اور کالج، اشرف علی تھانوی سے احمد رضا بریلوی، ڈیکارٹ سے رسل اور لینن، غزالی سے رازی اور اقبال، غالب سے وصی شاہ اور امریکا سے روس تک کے ہر موضوع پر بات کرنے والا چند لوگوں کا حلقہ مل جانا کوئی مشکل بات نہ ہوتی۔ لیکن یہ سلسلہ بھی اب گردشِ دوراں کے ہاتھوں ختم ہوتا چلا گیا۔ ان ہوٹلوں پر بیٹھ کر جو تخلیق کار اس جہان خراب سے وابستہ دور اندیش باتوں کی راز جوئی میں لگے ایک ہاتھ میں چائے کا مگ، دوسرے میں سگریٹ پکڑے مصروف ہوتے تھے وہ اب ملتے کہاں ہیں؟ مجھے تو یہی سمجھ میں آیا ہے کہ یہ بے برکتی کا نتیجہ ہے۔
لیکن کیسی بے برکتی؟
ارے میاں سمجھنے والی بات ہے۔ چائے جن ہاتھوں سے بنتی ہے ان ہاتھوں میں وہ کیفیتیں کہاں رہی ہیں جو پہلے تھیں؟ پہلے جو لوگ چائے بناتے تھے وہ چائے کے ذائقہ شناس بھی اسی طور تھے جو تخلیقی عمل کو ابھارنے کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے کافین (Caffeine) کے اثرات بھی اسی طور کام دکھایا کرتے تھے۔ گولڈ لیف کا پاکیٹ جس پر سالہا سال سے چھیانوے روپے قیمت چھپ کر آرہی ہے، ایک سو بیس سے روپے سے کم کا کہیں رہا ہے کیا؟ اب بتاؤ بے برکتی ہوگی یا نہیں؟ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جن جذبات سے ہندوستانیوں اور اردو بولنے والوں یا پھر پنجابیوں نے چائے کے حوالے سے خدمت انجام دی ہے یہ کام پٹھان نہیں کرسکا۔ پٹھان نے ہوٹل کی چائے کی مخصوص نفاست مزاجی اور روایتی معیار میں بھی رخنہ اندازی کی ہے۔ لیکن کیا کہیے کہ اگر اس منصب کو صحیح وقت پر پٹھان نہ سنبھالتا تو شاید یہ ہوٹل کی چائے خال خال ہی دیکھنے کو نصیب ہوتی۔

فیس بک پوسٹ

جمعرات، 16 جولائی، 2015

میں بسملؔ ہوں ---- مزمل شیخ بسملؔ

کچھ عرصہ قبل کسی نے سوال کیا کہ یہ لفظ "بسمل" میرے نام کے ساتھ کیوں جڑا ہوا ہے؟
میں سوچنے لگا۔۔۔۔ یہ واقعی غور طلب بات تھی جس کا تشفی بخش جواب آج تک میں خود باوجود کوشش کے پا نہیں سکا تھا کہ اس لفظ کا مجھ سے کیا اور کیسا تعلق ہے؟ ہاں کسی موہوم خیال کے ساتھ نیم غنودہ عالم میں سوچتے ہوئے میں اتنا ضرور جان پایا تھا کہ قدرت نے مجھے درد سے نہیں تو احساسِ درد سے ہمیشہ مالامال رکھا ہے جس کی وجہ سے میں لاشعوری طور پر اپنی پسند اور ناپسند کے معاملے میں ہمیشہ سے خاصا محتاط رہا ہوں۔ سوچتے سوچتے میں حیرت آگیں راستوں کے کتنے ہی دراپنی ذات پر۔۔۔۔ اپنے آپ پر وا کر بیٹھا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ ان ٹیڑھے ترچھے رستوں کو طے کر کے منزل کا سراغ مجھے ملنے والا تھا یا نہیں۔ لیکن یہ ضرور جانتا تھا کہ جو کچھ مجھ پر گزرا ہے یا گزر رہا ہے وہ میری سمجھ سے بالاتر تو ہو سکتا ہے لیکن "لاحاصل" نہیں ہوسکتا۔ شاید یہی سچائی تھی جو مجھے مزید ڈبونے پر مُصِر رہی تھی۔ یہی وہ حقیقت تھی جو مجھے ان لایعنی محسوسات کو جھٹک کر بھول جانے میں مخل ہوئی تھی۔ ہر ہر بے معنی احساس کا کوئی با معنی نتیجہ خانۂ وقت کی کسی چوکھٹ، کسی کواڑ یا کسی کونے میں موجود ضرور ہوتا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے ناں کہ وہ اداسیاں جن کی کوئی وجہ سمجھ میں نہ آتی ہو، وہ عشق جو بطنِ عاشق سے نکل کر کبھی پایۂ وجود تک پہنچ ہی نہ پایا ہو، اور وہ احساسات جن کا کوئی مصدر ہی معلوم نہ ہو، یہ سب اپنی ذات میں اتنے کثیف ہوتے ہیں کہ ذہن و دل پر ان کے غیر اصلی ہونے کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ لیکن یہ وہ کیفیت ہے جو وحشت اور طمانیت کے درمیان قائم رہتے ہوئے ایک اضطراب کو دوام بخش دیتی ہے جو تاحیات ساتھ ہی چلتا رہتا ہے۔ عام حالات میں اسے "نفسیاتی ہونا" کہا جاتا ہے۔ میں شاید اس کیفیت سے بھی آگے نکل چکا تھا۔ کیونکہ میں نے تو محبت کی تھی۔ ایک نہیں۔۔ کئی محبتیں کی تھیں۔ اور یہ سب میرے اسی اضطراب کا نتیجہ ثابت ہوئی تھیں جس کی دیرینگی بھی مجھ پر عذاب کی مانند برس رہی تھی۔ وہ اضطراب جس کو کم کرنے کی سعی لاحاصل میں میرے شب و روز برف کی طرح پگھلتے جارہے تھے۔ پھر عشق ہوا۔ پوری آب و تاب اور پوری تمکنت کے ساتھ۔ عشق مجھ پر طاری ہوا تھا جس کے زور سے میں اپنا وجود ایسے ہی بھول گیا تھا جیسے کوئی جگنو عروجِ مہر پر اپنے وجود کو بُھلا کر اسے اپنی درماندگی کی دلیل بناتا ہے۔ لیکن جگنو اس دوران یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا وجود شبِ تاریک میں بھی اسی طرح روشن رہے گا جب سورج کی تمام نخوت ڈھل ڈھل کر ڈھے چکی ہوگی۔
اب تک میں یہ جان چکا تھا کہ یہ اضطراب میرے وجود ہی کی طرح ہے جو کبھی مرنہیں سکتا۔ لوگ کہتے ہیں کہ عشق مرتا نہیں ہے۔ لیکن مجھے معلوم ہوچکا تھا کہ یہ دل جوئی، محبت اور عشق وغیرہ کے سارے راستے انسان اختیار ہی اس لیے کرتا ہے کہ اس اضطراب کو کَم یا ختم کیا جاسکے۔ لیکن وہ ناکام رہتا ہے۔ یہ بے کیفی و سراسیمگی اس کے خمیر میں رکھ دی گئی ہے۔ وہ مضطرب رہنے ہی کے لیے پیدا ہوتا ہے اور یہ اضطراب لمحۂ نزع تک اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ یہ زندگی اسی ایک نفسِ تنگ کا نام ہے جو دمِ ذبح پر کسی خنجرِخونخوار کی کارفرمائی سے لے کر "تڑپ" کے آخری جھٹکے تک کے دورانیے کو محیط ہوتا ہے۔


فیس بک پوسٹ